را بطے قائم ہو ۓ تو فا صلے مِٹنے لگے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKرا بطے قائم ہو ۓ تو فا صلے مِٹنے لگے
نا شناسائی کے سا رے مرحلے مِٹنے لگے
مختصر سا اِک تعلق یا د پھر آیا مجھے
نقش جب مہندی کے میرے ہاتھ سے مِٹنے لگے
چلتے چلتے راہ میں جب پھیر لی اس نے نظر
چاہتوں کے ، قربتوں کے ، سلسلے مٹنے لگے
آ گیا اب زندگی میں اِک عجب ٹھہراؤ سا
دِل میں جو موجود تھے سب وسوسے مِٹنے لگے
نیند کی دیوی نے مجھ کو جب لیا آغوش میں
رفتہ رفتہ سوچ کے سب دائرے مِٹنے لگے
جب سے میں نے کر لیا سوچوں کو اپنی پرُ سکوں
میری راتوں کی جبیں سے رتجگے مٹنے لگے
آج دوراہے پہ آ کر کیا اچانک ہو گیا
منزلیں آئیں نظر تو راستے مِٹنے لگے
اُس نے عذراؔ گھول لی لہجے میں شیرینی نئی
تلخ لہجوں کے وہ سارے تجربے مِٹنے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







