دوسروں کو سہارا دو

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

جب کوئی اپنا نہ ملے
جینے کو سپنہ نہ ملے
منزل کی نہ پہچان ہو
زندگی نہ آسان ہو
پاوں جب رکنے لگیں
تو چلنے کا اشارہ دو
دوسروں کو سہارا دو

وقت کاٹنا آسان ہو گا
تمہارے اندر اک جہاں ہو گا
زخموں پر جو مرہم رکھو تو
جینا تمہارا بھی آسان ہو گا
جیون کو اپنے کنارہ دو
دوسروں کو سہارا دو

منزل کی تلاش میں
گمراہ شکست فاش میں
لوگ چل رہے اپنی اپنی راہ
صرف اپنے غم سے ہی آگاہ
تم رات کو ستارہ دو
دوسروں کو سہارا دو

چنے ہوئے کچھ لوگ ہیں
ہر طرف تو روگ ہیں
دوسروں کو ہنساتے ہیں
غم اپنے چھپاتے ہیں
کوئی رشتہ تم پیارا دو
دوسروں کو سہارا دو

Rate it:
Views: 546
22 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL