ہمسفر

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

ہمسفر ہیں ہم تم
بہت دوریاں بہت قریب ہیں
کبھی رنجشیں کبھی محبتیں
کبھی رقیب ہیں کبھی حبیب ہیں
ڈھونڈتی ہیں نگائیں تجھے
جو کبھی نہ میرے پاس ہو
جو روٹھ کر جائے کبھی
دل کیا روح بھی اداس ہو
عجیب سا یہ احساس ہے
جو نہ بتا سکوں بے قیاس ہے
کبھی آمنے سامنے کوسنا
کبھی تنہائی میں سوچنا
مجھے کبھی بہت دور لگے
کبھی لگے میرا ہے تو
سب سے زیادہ مجھے ہی چاہے
کبھی ہو یہ جستجو
پھر لگے سب کچھ خواب ہے
سب دل پر مسلط عذاب ہے
جس کی تجھ کو خبر نہیں
جس پر مجھے صبر نہیں
ممکن ہے ہر دل میں ہو
جو بھی کسی کا ہمسفر ہو

Rate it:
Views: 566
22 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL