دونوں جہاں لٹا بیٹھا

Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahore

چنے ہیں ہم نے سب رنگ وفا کے دامن تیرا سجانے کو
دیکھ تو مڑ کے ایک نظر تو آ رہا ہوں منانے کو

کچھ بہا دیا ہے طوفانوں میں کچھ آندھیاں ساتھ لے اڑیں
کیوں آگ لے کر تم آئے ہو، اب کیا بچا ہے جلانے کو

کہا چادر دیکھ کے پاؤں پھیلا، سو پاؤں ہی اپنے کاٹ دئیے
چادر سنبھالو تم اپنی یہاں کچھ نہیں اب پھیلانے کو

ملا حکم جب چلنے کو، بے سروساماں ہی ہم چل دئیے
شہر چھوٹا چھوٹ گیا، آباد کریں اب ویرانے کو

کہا دل کی لگی اچھی نہیں، میری مان لے تو لوٹ آ
کیا ہی پاگل شخص ہے یہ، سمجھا رہا ہے دیوانے کو

کیا ضد تھی اس ستم گر کی، کہ رو کے تو دکھا دے مجھ کو
جو رو پڑے تو سب خون نکلا، آنسو نہیں تھے بہانے کو

زلفی سا سوداگر بھی کبھی، دیکھا ہے تم نے یہاں پہ کوئی
دونوں جہاں لٹا بیٹھا بس ایک شخص کے پانے کو

Rate it:
Views: 568
13 May, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL