دھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے

Poet: زیــــن شـــــکیـــــــؔل By: زیــــن, karachi

دھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے
غــم کی سسکیاں لے کر بے کلی پکاری ہے، کتنی سوگواری ہے

جب بھی وہ ملے مجھسے حال چال کے بدلے پوچھتا ہے بس اتنا
یــار یہ بتــــاؤ تـم ، کتنــی بےقـــراری ہے؟ کتنی سوگواری ہے؟

اک ملنگ نے مجھ سے یہ کہا کہ لوگوں میں آیا جایا کر پاگل!
ساتھ ساتھ رکھا کر، یہ جو دنیا داری ہے، کتنی سوگواری ہے!

کوئی کیسے سمجھے گا کسطرح گزرتے ہیں رات دن اذیت میں
زینـــتِ مقــــدر ہے، جتـــنی آہ و زاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

شام ہے، اُداسی ہے، روح بھی تو پیاسی ہے، بات گو ذرا سی ہے
کسطرح کہوں کیسے میں نے شب گزاری ہے، کتنی سوگواری ہے

میں تو خود پریشاں ہوں جو بھی ہو گیا رخصت لوٹ کر نہیں آیا
اِک مــــرا اکیلا پن اور ہجــــر جـــاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

میرے پاس آنے سے ہاتھ بھی ملانے سے ڈر رہے تھے سارے لوگ
روح کے بہت اندر، ہـم نے خود اتاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

Rate it:
Views: 549
04 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL