دھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے
Poet: زیــــن شـــــکیـــــــؔل By: زیــــن, karachiدھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے
غــم کی سسکیاں لے کر بے کلی پکاری ہے، کتنی سوگواری ہے
جب بھی وہ ملے مجھسے حال چال کے بدلے پوچھتا ہے بس اتنا
یــار یہ بتــــاؤ تـم ، کتنــی بےقـــراری ہے؟ کتنی سوگواری ہے؟
اک ملنگ نے مجھ سے یہ کہا کہ لوگوں میں آیا جایا کر پاگل!
ساتھ ساتھ رکھا کر، یہ جو دنیا داری ہے، کتنی سوگواری ہے!
کوئی کیسے سمجھے گا کسطرح گزرتے ہیں رات دن اذیت میں
زینـــتِ مقــــدر ہے، جتـــنی آہ و زاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
شام ہے، اُداسی ہے، روح بھی تو پیاسی ہے، بات گو ذرا سی ہے
کسطرح کہوں کیسے میں نے شب گزاری ہے، کتنی سوگواری ہے
میں تو خود پریشاں ہوں جو بھی ہو گیا رخصت لوٹ کر نہیں آیا
اِک مــــرا اکیلا پن اور ہجــــر جـــاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
میرے پاس آنے سے ہاتھ بھی ملانے سے ڈر رہے تھے سارے لوگ
روح کے بہت اندر، ہـم نے خود اتاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






