دھڑکنیں تو زندہ ہیں درمیاں نہیں کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکیا بتائیں اس کے بن ایسی جاں نہیں کوئی
دھڑکنیں تو زندہ ہیں درمیاں نہیں کوئی
میں اسے سمجھنے کے مرحلوں میں الجھی تھی
اس نے جانے کیا کیسے یہ کہاں نہیں کوئی
نیند کیوں نہیں آتی خواب خواب آنکھوں کو
شہر جاں میں ہر جانب یہ جہاں نہیں کوئی
نیند مانگتے پھرنے میں انا کا سودا تھا
اس انا میں خوابوں کی کہکشاں نہیں کوئی
ہونٹ تیرے پھولوں سے بات تیری خوشبو سی
روپ چاند سا تیرا دل آسماں نہیں کوئی
زعم اور انا کا ہم اور کیا گلا گھوٹیں
اس کا ہر کہا مانا مگر گماں نہیں کوئی
اس کے چھوڑ جانے پر کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا
کچھ نہ کر سکے وشمہ مہرباں نہیں کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






