دیا ہے یار نے تحفہء پیار کنگن
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaدیا ہے یار نے تحفہء پیار کنگن
یار جیسا ہے سندر چمکدار کنگن
ملتی ہیں عادتیں بھی ساری یار سے
کرتا ہے رات ساری بے قرار کنگن
کھو جاتی ہوں میں خیالِ یار میں
بس دیکھتی ہوں میں بار بار کنگن
سرخی لگا لوؤں ، گیسوں سجا لوؤں چاہے
پہنوں تو مکمل ہوتا ہے سنگھار کنگن
میری چوڑیوں کے سنگ ناچتا ہے اکثر
کبھی چوم لیتا ہے میرا رُخسار کنگن
سارا دن گزرتا ہے سنگ اِس کے
میں غلام ہوں اور میرا سردار کنگن
نہالؔ کا خاص تحفہ ہے خاص کیلئے
لگتا ہے جنت میں ہوا تیار کنگن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






