دیدہ شوق کو تڑپا کے چلا جاؤں گا
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockحسرت دید کو ترسا کے چلا جاؤں گا
تیری الفت کی قسم کھا کے چلا جاؤں گا
تو اُسی شہر کی گلیوں میں کہیں رقصاں ہے
دامن شوق کو پھیلا کے چلا جاؤں گا
اک برسے ہوئے بادل کی طرح گزرا ہوں
موج میں آیا ہوں، لہرا کے چلا جاؤں گا
رات کی رات کا مسافر ہوں تیری بستی میں
شب کا تارا ہوں نظر آکے چلا جاؤں گا
اک نظر دور سے دیکھوں گا دروبام تیرے
دیدہ شوق کو تڑپا کے چلا جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






