اسے خداحافظ تو کہنا تھا
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockجدا ہونے کے صدمے کو اگرچہ ہنس کے سہنا تھا
اسے رسمی ہی سہی لیکن خدا حافظ تو کہنا تھا
زبان میں اتنی طاقت تھی، مگر صحرا کی وحشت میں
میری بچپن سےعادت تھی، تجھے خاموش رہنا تھا
وہ کچا گھر، وہ بارش میں ہماری جاگتی آنکھیں
ہمیں جاتی ہوئی برکھا سے، کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا
ہم رسم وفا اس سے نبھاتے بھی تو آخر کہاں تک
ہمارے خواب کے گھر تھے، ہمیں تو ان میں رہنا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






