دیوار انا کی قائم تھی مرے ذات سے آگے
Poet: habibullah Khiyal By: habib ganchvi, Islamabadدیوار انا کی قائم تھی مرے ذات سے آگے
بات بڑھ نہ سکی یوں رسم ملاقات سے آگے
خاک ر اہ عشق کی چھانی ہے صبح و شام
تھی عشق کی اُونچی منزل اوقات سے آگے
اشکوں میں چمک تو تھی ستاروں کی مانند
ٹپکا تو ملا خاک میں اظہار جذبات سے آگے
کہتے ہیں نشہ چشم تصور سے ممکن ہے
چشم تصور نہ ملی وہم و خیالات سے آگے
ہے خوف وصل کے لمحات کے خیال سے
سر نگوں نہ مرا عشق ہو اوقات سے آگے
More Love / Romantic Poetry






