دیوار و بام نہ کھڑکی نہ کوئی در مرے ساتھ
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaدیوار و بام نہ کھڑکی نہ کوئی در مرے ساتھ
مزاق کرتا ہے اکثر مرا ہی گھر مرے ساتھ
میں ایک عمر سے اپنی تلاش میں ہو مگن
ہے منزلوں سے بھی آگے کہیں سفر مرے ساتھ
میں اپنے آپ میں سمٹا ہوا سمندر ہوں
تُو ایک دریا سا پھرتا ہے بے خبر مرے ساتھ
تلاش کرتا ہے مجھ کو یہ مجھ میں آخر کون
بھٹکتا پھرتا ہے اک شخص دربدر مرے ساتھ
تُو آئینہ ہے تو خود میں تلاش کر خود کو
کبھی بکھر تو سہی تُو بھی ٹوٹ کر مرے ساتھ
میں تیرے شہر میں مشہور ہوں تو اِس میں بھی
تمہارا ذکر پس ِفن ہے معتبر مرے ساتھ
میں دیکھتا ہوں جو تصویر اپنی سوچتا ہوں
یہ کون آتا ہے پیچھے کھڑا نظر مرے ساتھ
بس اِس امید پہ چڑیا تھی خوش پناہ کے لئے
تمام رات کو جاگے گا اب شجر مے ساتھ
میں اپنے کھیت کے پیڑوں سے تھک چکا ہوں عقیل
کوئی تو بانٹ لے آ کر سبھی ثمر مرے ساتھ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






