دیوار و بام نہ کھڑکی نہ کوئی در مرے ساتھ

Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodha

دیوار و بام نہ کھڑکی نہ کوئی در مرے ساتھ
مزاق کرتا ہے اکثر مرا ہی گھر مرے ساتھ

میں ایک عمر سے اپنی تلاش میں ہو مگن
ہے منزلوں سے بھی آگے کہیں سفر مرے ساتھ

میں اپنے آپ میں سمٹا ہوا سمندر ہوں
تُو ایک دریا سا پھرتا ہے بے خبر مرے ساتھ

تلاش کرتا ہے مجھ کو یہ مجھ میں آخر کون
بھٹکتا پھرتا ہے اک شخص دربدر مرے ساتھ

تُو آئینہ ہے تو خود میں تلاش کر خود کو
کبھی بکھر تو سہی تُو بھی ٹوٹ کر مرے ساتھ

میں تیرے شہر میں مشہور ہوں تو اِس میں بھی
تمہارا ذکر پس ِفن ہے معتبر مرے ساتھ

میں دیکھتا ہوں جو تصویر اپنی سوچتا ہوں
یہ کون آتا ہے پیچھے کھڑا نظر مرے ساتھ

بس اِس امید پہ چڑیا تھی خوش پناہ کے لئے
تمام رات کو جاگے گا اب شجر مے ساتھ

میں اپنے کھیت کے پیڑوں سے تھک چکا ہوں عقیل
کوئی تو بانٹ لے آ کر سبھی ثمر مرے ساتھ

Rate it:
Views: 1163
25 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL