خوابید پرندوں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں

Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodha

خوابید پرندوں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں
مدت سے میں اک حرفِ خزاں ڈھونڈ رہا ہوں

اب تُو ہے نہ بستی ہے نہ رستہ نہ مسافر
جلتے ہوئے خوابوں کا دُھواں ڈھونڈ رہا ہوں

کیا چیز ہے دل بھی کہ میں صحرا کے سفر میں
سر سبز درختوں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں

اک عمر گزاری ہے تو قدموں کے نشاں سے
خوابوں کے شکستہ سے مکاں ڈھونڈ رہا ہوں

لفظوں سے کوئی عکس تراشا ہے تو پھر اب
لمحوں کی تجارت میں زیاں ڈھونڈ رہا ہوں

کچھ اور سفر میں مرے آگے سر ِخواہش
اے دوست تجھے اب میں کہاں ڈھونڈ رہا ہوں

اے عمر سیاہ بخت ذرا ٹھہرا کہ اب میں
گُم گشتہ حقیقت کے گماں ڈھونڈ رہا ہوں
 

Rate it:
Views: 680
25 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL