دیپ جلانے نکلا ہوں میں آگ پکڑ کر مُٹھی میں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaدیپ جلانے نکلا ہوں میں آگ پکڑ کر مُٹھی میں
اظہر خواب حقیقت ہو گا، جاگ پکڑ کر مُٹھی میں
ماں کی ممتا ، ماکھن پیڑا قصے سارے ماضی کے
بیٹھا ہوں سوچوں میں گُم میں ساگ پکڑ کر مُٹھی میں
لگتا ہے اب جگ میں اس کا دھیلہ ملنا مُشکل ہے
کاہے کو میں گھوموں اب بھی لاگ پکڑ کر مُٹھی میں
مُجھ کو دیوانہ مت سمجھو کُچھ کرنے پر آ جاؤں
ساون تک برسا دیتا ہوں راگ پکڑ کر مُٹھی میں
اس کی اُس کی چھت پر بیٹھے کان مرے کھا جاتے ہیں
دیواروں سے دے ماروں سب کاگ پکڑ کر مُٹھی میں
ماضی حال ملا کر ہوتا ہے تشکیل تو پھر بہتر
اپنے مُستقبل کی رکھو باگ پکڑ کر مُٹھی میں
آڑ بنے تھے، سمجھایا بھی، مان کے دینا کس نے تھا
چاند سے میں نے دور ہٹائے ناگ پکڑ کر مُٹھی میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






