بیٹھا ہوں یہاں آؤ
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبیٹھا ہوں یہاں آؤ مجھے ڈھونڈنے والے
لوگوں سے مرے بارے میں کچھ پوچھنے والے
سردی ہے نہیں آؤں گا گھر اپنے رہوں گا
چھپ چھپ کے مجھے راستے میں دیکھنے والے
دل میرا جو چاہے گا وہی اب میں کرونگا
تم کون ہو یوں بیچ میں اے ٹوکنے والے
ناراض نہیں ہوتے کبھی پیاروں سے اپنے
اب مان بھی جا مت یوں ستا روٹھنے والے
کرنی ہے ملاقات اگر بھاک کے آؤ
آجاؤ خیالوں میں مجھے سوچنے والے
من مانی کروں گا نہیں تم روک سکو گے
تم کون ہوتے ہو مجھے یوں روکنے والے
توقیر ملے گی رہے گی شان سلامت
خودار وغیور آپ کے ہیں چاہنے والے
کب کا گئے ہیں چھوڑ نہیں ملتے کبھی وہ
شہزاد نہیں اب رہے دل توڑنے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






