دیکھی ہے جب سے دیدہءِ کم کم کی چاندنی
Poet: wasim ahmad moghal By: im ahmad moghal, lahoreدیکھی ہےجب سے دیدہءِ کم کم ۔۔کی چاندنی
بجھتنی نہیں ہے دیدہءِ پُرنم ۔۔۔۔کی چاندنی
دی ہے اُسی نےپھول سے چہرے کو۔ روشنی
بخشی ہے جس نے آنکھ کو شبنم ۔۔۔کی چاندنی
نظریں اُٹھا کے دیکھو ذرا ۔۔۔۔۔۔۔آسمان کو
بکھری ہے کس کےحُسنِ تبسّم۔۔۔ کی چاندنی
جس طرح روز بڑھتی ہے اُس چاند ۔۔کی ضیاء
چمکے گی اور عشق میں ہمدم۔۔۔۔۔ کی چاندنی
وہ کون ہے کہ جس کی محبّت کے۔ فیض سے
ڈوبی ہوئی ہے عشق میں سُرگَم ۔۔کی چاندنی
لینا نہیں ہے کچھ بھی مجھےتم سے ۔جانِ جاں
میرے لئے بہت ہے تیرے غم ۔کی چاندنی
حیران ہے یہ دنیا ۔۔۔۔چمک اُس کی دیکھ کر
کیوں مانند پڑ گئی سارے کی ۔۔عالم کی چاندنی
شاید تمہیں اِیمان کی کچھ۔۔۔۔ ۔روشنی ملے
لے تُو بھی پی لے چشمہءِ زم زم ۔۔کی چاندنی
ہمدردی و ایثار و وفا ۔۔۔۔۔۔۔ ہی سے دوستو
اور بندگیءِ رب سے ہےآدم ۔۔۔۔کی چاندنی
اے ظالموں جواب دو زنداں۔۔۔ میں ڈال کر
کیا مانند ہوگئی میرے پرچم ۔۔۔۔۔۔کی چاندنی
کیوں ٹمٹما رہی ہے۔۔۔۔۔۔تیری آرزو کی لو
بجھنے نہ دیں گے شعلہءِ مدھم ۔۔۔۔کی چاندنی
تم راہ گزارِ عشق میں چلتے رہو۔۔۔۔۔۔وسیم
چومے گی پاؤں کوششِ پیہم۔۔۔۔ کی چاندنی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






