ذرا بیٹھ تو مرے روبرو تجھے اشک اشک اتار لوں
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiذرا بیٹھ تو مرے روبرو تجھے اشک اشک اتار لوں
ترا لفظ لفظ ہے داستاں میں غزل کو تجھ سے سنوار لوں
کسی رات میں کسی خواب میں مری زندگی مرے پاس آ
اسی رات میں اسی خواب میں میں یہ زندگی بھی گزار لوں
وہ ہی خوب تھے وہ ہی خوب تر ترے ساتھ پل جو گزر گئے
وہ ہی یاد گر مرے ساتھ ہو میں اجاڑ دل کو سنوار لوں
ترے روپ کو نہ نظر لگے ذرا بادلوں کی تو اوٹ لے
مری چاندنی میں نظر تری کبھی چاند سے بھی اتار لوں
مری یاد سے کسی شام کومرے ہم نشیں تو سجا ذرا
اسی شام میں کبھی ہوش کو میں جنوں کی حد سے گزار لوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






