ملتے ہیں
Poet: yasir khan By: yasir khan, sibiہے آج چاند رات چلو چاندنی سے ملتے ہیں
چاند تو ہے دور بہت چلو تمھی سے ملتے ہیں
خوش ہوجاتا ہو میں ان میں گھل مل کے بہت
موسموں کے رنگ تیری ہنسی سے ملتے ہیں
بھر دیا ہے مجھ میں محبت کو اس قدر تونے
دشمنوں سے بھی ہم خوشی سے ملتے ہیں
مل رہے ہیں تیرے شہر کے راستے یوں مجھ سے
بادشاہ جیسے کسی عام آدمی سے ملتے ہیں
نہ چاہ کسی دولت کی نہ طلب کس امارت کی
کہ دنیا جہاں کے رتبے اس شاعری سے ملتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






