ذرا تم صبر تو کرلو
Poet: Yasir Ejaz Kaka Khel By: Yasir Ejaz Kaka Khel, Novesheraبنادیں گے تمہیں اپنا ذرا تم صبر تو کرلو
مجھے دنیا سے لڑنا ہے ذرا تم صبر تو کرلو
تمہارے بن کسی کا سوچنا ممکن نہیں جاناں
یہ جیون تم بن ادھُورا ہے ذرا تم صبر تو کرلو
یہ دنیا چھوڑدے مجھ کو مجھے پروانہیں اس کی
فقط تم کو ہی پانا ہے ذرا تم صبر تو کرلو
تم اپنی دل کی بستی میں مجھے آباد ہی رکھنا
بہت برداشت ہے مجھ میں ذرا تم صبر تو کرلو
میرے چہرے پہ زخموں کی لڑی آباد ہے اب تک
مجھے زخموں کو سینا ہے ذرا تم صبر تو کرلو
ملن ممکن نہیں جاناں اگر اس فانی دنیا میں
ذرا محشر تو آنے دو ذرا تم صبر تو کرلو
تمہارا تھا تمہارا ہوں تمہارا ہی رہوں گا میں
یاسر کو آزماؤ نا ذرا تم صبر تو کرلو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






