ذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
حقیقت کو چھپانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
جہاں پر حسن کی آوارگی نے رکھے تھے پاؤں
وہاں پلکیں بچھانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
جسی دیکھے بنا دھڑکن پہ اک انکار رہتا ہے
اسے یونہی ستانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ابھی تک ناشناسائی ہے جن بیتاب آنکھوں میں
انہیں اپنا بنانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
کبھی ان خواہشوں پر بھی کوئی بند باندھ پایا ہے؟
اسے اس سے چرانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
پڑے ہیں استراحت میں جو لمحے دل کے پہلو میں
انہیں اب گدگدانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ہواؤں سے چکور اک کہہ رہی تھی شوخ لہجے میں
ذرا چندا کو پانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ذرا ٹھہرو، کہ زلفوں کی گھنیری شام کی خاطر
ستارے توڑ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ابھی بھی ان کہی کی دھند میں لپٹے ہیں جو جذبے
انہیں ہونٹوں پہ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






