ذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

ذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
حقیقت کو چھپانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

جہاں پر حسن کی آوارگی نے رکھے تھے پاؤں
وہاں پلکیں بچھانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

جسی دیکھے بنا دھڑکن پہ اک انکار رہتا ہے
اسے یونہی ستانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

ابھی تک ناشناسائی ہے جن بیتاب آنکھوں میں
انہیں اپنا بنانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

کبھی ان خواہشوں پر بھی کوئی بند باندھ پایا ہے؟
اسے اس سے چرانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

پڑے ہیں استراحت میں جو لمحے دل کے پہلو میں
انہیں اب گدگدانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

ہواؤں سے چکور اک کہہ رہی تھی شوخ لہجے میں
ذرا چندا کو پانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

ذرا ٹھہرو، کہ زلفوں کی گھنیری شام کی خاطر
ستارے توڑ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

ابھی بھی ان کہی کی دھند میں لپٹے ہیں جو جذبے
انہیں ہونٹوں پہ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو

Rate it:
Views: 1792
17 Jun, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL