ذوقِ علم اب کوٸی صحرا نہیں رہنے دے گا

Poet: Syed Iftikhar Ahmed Rashk By: Syed Iftikhar Ahmed Rashk, Karachi

ذوقِ علم اب کوٸی صحرا نہیں رہنے دے گا
علم کے بحر کا قطرہ نہیں رہنے دے گا

ناشناساٸے ہنر کو میں بتاٶں کیا ہنر
بس چلے تو مرا شہرہ نہیں رہنے دے گا

کرچیاں ہوکے بھی نہ نوچ سکے گا خود سے
آٸنہ کیا مرا چہرہ نہیں رہنے دے گا

خلوتِ سینہ سے دل دیپ کو باہر کردو
کم سے کم ظلم کا کُہرا نہیں رہنے دے گا

حالِ دل دیکھ لو ہے روبرو حسبِ سابق
کیسے جانا تھا کہ نشّہ نہیں رہنے دے گا

ناگنی زلفِ حسیں آنکھ میں بس کر کیا ستم
آنسو آکر ترا ریزہ نہیں رہنے دے گا

لقمہ ٕ جور و ستم کھا کے شکم سیر ہوٸے
جی میں آٸے تو نوالہ نہیں رہنے دے گا

واقعہ دوہرا ہے گویا ترا دل سے جانا
درد کا جام چھلکتا نہیں رہنے دے گا

وہ اگر جان لے کیا جور کا خمیازہ ہے
کوٸی بھی زخم سنہرا نہیں رہنے دے گا

گلشنِ دل میں غمِ عشق سے آتش گل کی
کس میں جرات ہے کہ سبزہ نہیں رہنے دے گا

آٸینہ عکس نما پردہ ٕ زنگار سے رشک
قابلِ دید جو پردہ نہیں رہنے دے گا

Rate it:
Views: 588
22 Oct, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL