ذوقِ علم اب کوٸی صحرا نہیں رہنے دے گا
Poet: Syed Iftikhar Ahmed Rashk By: Syed Iftikhar Ahmed Rashk, Karachiذوقِ علم اب کوٸی صحرا نہیں رہنے دے گا
علم کے بحر کا قطرہ نہیں رہنے دے گا
ناشناساٸے ہنر کو میں بتاٶں کیا ہنر
بس چلے تو مرا شہرہ نہیں رہنے دے گا
کرچیاں ہوکے بھی نہ نوچ سکے گا خود سے
آٸنہ کیا مرا چہرہ نہیں رہنے دے گا
خلوتِ سینہ سے دل دیپ کو باہر کردو
کم سے کم ظلم کا کُہرا نہیں رہنے دے گا
حالِ دل دیکھ لو ہے روبرو حسبِ سابق
کیسے جانا تھا کہ نشّہ نہیں رہنے دے گا
ناگنی زلفِ حسیں آنکھ میں بس کر کیا ستم
آنسو آکر ترا ریزہ نہیں رہنے دے گا
لقمہ ٕ جور و ستم کھا کے شکم سیر ہوٸے
جی میں آٸے تو نوالہ نہیں رہنے دے گا
واقعہ دوہرا ہے گویا ترا دل سے جانا
درد کا جام چھلکتا نہیں رہنے دے گا
وہ اگر جان لے کیا جور کا خمیازہ ہے
کوٸی بھی زخم سنہرا نہیں رہنے دے گا
گلشنِ دل میں غمِ عشق سے آتش گل کی
کس میں جرات ہے کہ سبزہ نہیں رہنے دے گا
آٸینہ عکس نما پردہ ٕ زنگار سے رشک
قابلِ دید جو پردہ نہیں رہنے دے گا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






