ذکر نو بہار چلے
Poet: Nasir Rizvi By: uzma ahmad, Lahoreرہیں عشق رہے زندگی گزار چلے
یہ ایک قرض تھا ہم پہ جو ہم اتار چلے
طلب ہوئی تو ہم ہی لے کے نقد جاں پہنچے
کہیں رکے ہی نہیں پھر جو ایک بار چلے
نگاہ یار میں ہی جب معتبر ٹھہرے
تو شہر یار سے ہم ہو کے شرمسار چلے
قفس میں بھی جو رہے تو رہے چمن کی طرح
خزاں بھی تھی تو کئے ذکر نو بہار چلے
کچھ اور چاہا نہ ہم نے دل و نظر کے سوا
ذرا سی بات تھی قصے مگر ہزار چلے
ٹھہر سکے جو کبھی وہ تو وقت بھی ٹھہرے
نہ بار بار رکے اور نہ بار بار چلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






