Bs Ab Laut Aa

Poet: hina khalil By: hina khalil, faisalabad

Tere Intizar Ka Dilkharash Waqt
Jane Q Thehar Gaya Ha
Teri Raah Takti Musafaton Mn
Khushk Patte B Jam Gay Hn
Chamakte Jugnu B So Gay Hn
Chand B Roshni K Sung
Door Kahin
Tje Khojne Nikal Gaya Ha
Hr Phool B
Khushbu Khushbu Bikhar Gaya Ha
Hawa Ki Aahatn B Kho Gai Hn
Sare Raaste B
Taron Ki Roshni Se Bhar Gay Hn
Phool Ki Sargoshyan B Chup Hn
Jb Itne Chahne Walon Ki Sada
Tmhn Sunai Nhi Deti
To Phr Meri Mohabat Bhari
Chahat Ki Wadyon K Andar Se Aati Maddham Awaz
Tmhn Kyunkr Sunai De Gi
Go K Zindagi
Anjan Rahon Pe Chal Nikli Ha
Yun K Ab
Lgti Nhi Ha Zindagi
Hawa Pe Rkhe Chiragh Ki Manind
Roshni Se Dhuwan Bn Gai Ha
Ankhon Mn Chubhan Bn Kr
Pani Sa Chamakne Lagi Ha
Ab To Gehri Neend Ka
Khumar B Nhi Raha
Qaus E Qaza Ka Husn B
Maand Par Gaya Ha
Umr Ki Taweel Riyazat B
Be Nateeja Ho Gai Ha
Dil Ki Saltanat Ka
Sakoon B Kho Gaya Ha
Is Qadar K
Haqiqat Ka Izhar B
Mushkil Sa Lagne Laga Ha
Ye Siyah Chashmagi
Jo Kbi Ghazab Thi
Ye B Joban Dhal Gaya Ha
Ay Jan E Hayat
Kahan Ha Tu
Laut Aa
K Teri Chahat Ka Andesha B
Jar Pakar Raha Ha
Laut Aa K
Bharose Ka Phool
Bikhar Raha Ha
Laut Aa
Bs
Ab Laut A

Rate it:
Views: 1254
30 May, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL