رات کے اندھیرے میں

Poet: Arsalan as Slan By: Arsalan, Khanpur RYK Punjab

رات کے اندھیرے میں دور ہم اکیلے ہوں
شام کا وہ لمحہ لیے دلوں سے ہم کھیلے ہوں

انتطار ہو اس پہر کا جس پھر میں ہمارے میلے ہوں
ساتھ وقت ہو ہمارے اور ہم اس وقت کے رکھیلے ہوں

کبھی تنہا نہ ہو دل ہمارا جو دکھ ہم نے جھیلے ہوں
دور اس شہر میں ، مٹی کے ہمارے ٹیلے ہوں

اک محل ہو، جس میں پھلوں کے باغیچے ہوں
اور اس باغیچے میں پھل سارے رسیلے ہوں

جنت کا سماں ہو جس میں جام ہم پیتے ہوں
خوبی اس جام کی، کہ جام سب نشیلے ہوں

کاش وہ وقت قریب ہو جس میں خواب ہمارے پورے ہوں
ہر شخص کی زباں پہ ، ہمارے نام کے پہیلے ہوں

دنیا رشک کرے ہمارے پیار پہ جس میں دکھ ہم نےجھیلے ہوں
اور ہم دور گگن میں ستاروں کی طرح چمکیلے ہوں

اور رات کے اندھیرے میں دور ہم اکیلے ہوں
شام کا وہ لمحہ لیے دلوں سے ہم کھیلے ہوں

Rate it:
Views: 904
24 Oct, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL