راز دل سنا نا ہے اب تو
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgراز دل سنا نا ہے اب تو
چپ کا روزہ توڑنا ہے اب تو
ساز نیا دل نے چھیڑ دیا ہے کیسا
گیت کوئی نیا گنگنانا ہے اب تو
شام ڈھل رہی ہے تاریکی میں
نیا دیپ کوئی جلاناہے اب تو
غافل ہے وہ میری ذات سے اب تک
اپنا آپ منوا نا ہے اب تو
روگ نیا دے گیا وہ ظالم
درد سہنے کا گر دل کو سکھانا ہے اب تو
More Love / Romantic Poetry






