راستے میں جو ملا تھا دو گھڑی کے واسطے
Poet: M.Tauqir Reza By: Tauqir Reza , Parisراستے میں جو ملا تھا دو گھڑی کے واسطے
ہو گیا وہ شخص لازم زندگی کےواسطے
جسم کی اندھی گلی سے اک قدم باہر ہوں میں
اب نہ بھٹکوں گا کہیں بھی روشنی کےواسطے
آسماں سے بھی اگر اترا تو ہوگا آدمی
ہے مسیحا آدمی ہی آدمی کے واسطے
آ ملوں گا تجھ سے یہ دیوار دنیا پھاندکر
اور اک دل مانگ لوں گا دل لگی کے واسطے
یہ محبت کا سفر ہے ایک دستور عمل
لفظ تو کافی نہیں اس نوکری کےواسطے
اس جفا پیشہ کو کوئی دل کہاں درکار تھا
اک کھلونا چاہیے تھا دل لگی کےواسطے
تجھ سے میں کیسے کہوں کتنی ضروری ہو گئی
ایک تیری مسکراہٹ ،زندگی کے واسطے
کچھ تو اپنوں کے لیے بھی بےخبرمحفوظ رکھ
مت لٹا، ساری محبت اجنبی کے واسطے
ایک ہو جائیں کسی لمحے میں ہم دونوں کے دل
جی رہا ہوں میں فقط اس اک گھڑی کے واسطے
دل کے پتھر کب بنا سکتے ہیں چاہت کے محل
دل بھی شیشہ چاہیے شیشہ گری کے واسطے
ناچتے گاتے رضا نے رکھ دیا پٹٹری پہ سر
گویا پیدا ہی ہوا تھا خود کشی کے واسطے
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






