راستے ہیں

Poet: محمد مدثر متخلص حافظ By: محمد مدثر, karachi

خار گل چاند تارے بھی ہیں راستے
گر سمجھ تو اشارے بھی ہیں راستے

زندگی واسطے تو ہے فرقان تُو
سب صحیفے سپارے بھی ہیں راستے

صبح نو شام نم رات دن مہر و ماہ
زندگی کے نظارے بھی ہیں راستے


سوچ تو سُبک اپنے ہی بارے کبھی
سوچ تیری کے دھارے بھی ہیں راستے

لا ابالی نہ چل راہ پر خطرہ ہے
دشت کے خوف مارے بھی ہیں راستے


خوب رو پھول و گل باد سحراں کی مہک
شہرِ جاں کے نظارے بھی ہیں راستے


عشق کا فن نہیں جانِ حافظ تجھے
عشق میں تو خسارے بھی ہیں راستے

از قلم محمد مدثر متخلص حافظ

Rate it:
Views: 109
17 Feb, 2026
More Sad Poetry