سنبھالی گئی

Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, Quetta

کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے نکالی گئی
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی

وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟

سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی

اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی

اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی

نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی

تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی

یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی

رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی

Rate it:
Views: 127
21 Feb, 2026
More Sad Poetry