راہ میں کانٹے آباد مت کرنا
Poet: ہارون الرشید اداس By: Haroon Ur Rasheed uDas, Muzaffarabadakملن کی راہ میں اب کانٹے آباد مت کرنا
ملن کی بنی ہیں جو راہیں ان برباد مت کرنا
وقت کی تلخیوں نے رکھا بہت ہی درد و الم میں
گر ہو سکے تو قدم لو آگے ماضی یاد مت کرنا
سفر کی وحشتیں ہوتی ہیں بہت ہی دل آزار سی
راستہ ہو گر سفر حیات کا تنگ تو فریاد مت کرنا
اپنے ہی ارمانوں کا کر کے قتل ملے گا نہ ثواب تم کو
ٹوٹے مسکن خدا جس سے سنو ایسا جہاد مت کرنا
مر گیا عشق میں تیرے یقین دلاتے دلاتے محبت میں کوئی
لکھا جائے پھر سے خدارا کوئی باب ایسا مت کرنا
توڑ دو پردہ کی دیوار اب دل میں بسا لو ابد ہمیں
دیدار کو ترے ترس جائے ہارون خدارا ایسا حجاب مت کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






