کار دنیا میں وہ قاتل کو مسیحا سمجھیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا'زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں'
کار دنیا میں وہ قاتل کو مسیحا سمجھیں
کیسے گزرے گی ترے دل پہ ذرا سوچ تو لو
تیری دنیا کو اگر ہم بھی تماشا سمجھیں
جب بھی لوٹو گے مرے پاس چلے آؤ گے
کیا تری بات کو پھر ہم یہ دلاسہ سمجھیں
میرے اپنے ہیں سبھی دل میں بھڑکتے شعلے
ہم تو آتش کو ترے پیار کا تحفہ سمجھیں
وہ جو اڑتے ہیں فضاؤں میں پرندہ بن کر
کاش دھرتی پہ کسی ایک کو اپنا سمجھیں
جس نے بھی ہم کو برے وقت میں اپنا سمجھا
ہم کیوں اس ذات کو خود اپنے سے چھوٹا سمجھیں
کل جو کرتے تھے مری بات پہ ہر طرح یقیں
وہی غمغوار مجھے آج کیوں جھوٹا سمجھیں
میں نے تو پھول لگائے تھے سبھی راہوں میں
پھر بھی کچھ لوگ مجھے راہ کا کانٹا سمجھیں
آپ سمجھیں نا مرا حاصل ہے مرا رخت سفر
میرے ہمزاد کو قدرت کا کرشمہ سمجھیں
جن کو دعوی تھا محبت کی خدائی کا یوں
کاش وہ آج بھی اس وشمہ کو وشمہ سمجھیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






