رفتہ رفتہ

Poet: فرمان By: Farman, Nawabshah

ہر زخمِ دل بھی ، ہے بھرتا رفتہ رفتہ
پھر بشاش ہوگا دل شِکستہ رفتہ ، رفتہ

جان نہیں جاتی کسی کی کس کہ سوا پر
ہان۔۔ مگر انسان ہے مرتا رفتہ ، رفتہ

جن کے اپنے دشمنو کی صف میں ہوں تو
انکا عزیز ہے کوئی راہ چلتا رفتہ ،رفتہ

جب کبھی مجھ سے بات منوانی ہو اسکو
منہ بناتا وہ ، اور روتا رفتہ ،رفتہ

راتوں سے تعلق مجھ سے پوچھا کسی نے
میں تھا چاند سے تعلق نبھاتا رفتہ ،رفتہ

ہم انسان کو پھر کیوں موسم کہتے ہیں
اب انسان تو ہے بدلتا رفتہ ،رفتہ

لوٹ آتا میں وہ اک ہی بار مجھ کو
فرمان پیچھے سے گر بلاتا رفتہ ، رفتہ

Rate it:
Views: 412
12 May, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL