صدیوں کی دوری ہو۔
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہضرُوری خُود کو سمجھو یا نہِیں سمجھو، ضرُوری ہو
بظاہر اِستعارہ قُرب کا، صدیوں کی دُوری ہو
اکڑ کر کہہ تو دیتے ہو کہ ہم ہیں جوہری طاقت
بہے گا خُون اِنساں کا، وہ ہو شاہیں کہ سُوری ہو
لو اب سے توڑ دیتے ہیں، جو محرُومی کے حلقے تھے
مِلائیں ہاں میں ہاں کب تک، کہاں تک جی حضُوری ہو
بڑی معصُوم خواہِش اب تو دِل میں سر اُٹھاتی ہے
کِسی دِن سامنا جو ہو تو دِل کی آس پُوری ہو
جنُوں کا مُعجزہ تھا ہم جو انگاروں پہ چل نِکلے
اداکاری کا وہ عالم کہ جُوں کوشِش شعُوری ہو
ہمیشہ کے لِیئے ہم یہ نگر ہی چھوڑ جائیں گے
مگر اِتنا کرے کوئی ضمانت تو عبُوری ہو
کمی تھوڑی سی رہ جائے تو مُمکِن ہے تدارُک بھی
تلافی ہو نہِیں سکتی کہ جب دِل ہی فتُوری ہو
ہمیں کرنا پڑے گا اِحترامِ آدمی لازِم
سراسر بالا تر ہو کر وہ ناری ہو کہ نُوری ہو
جِدھر دیکھو اُدھر اب موت کا سامان دِکھتا ہے
رشِید اپنی کہانی یہ نہ ہو آدھی ادھُوری ہو
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






