رنگ بھرتا ہوں میں تصویر نہیں بن پاتی
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaرنگ بھرتا ہوں میں تصویر نہیں بن پاتی
کیوں دعاوں سے بھی تقدیر نہیں بن پاتی
خواب کی حد سے ہی رہ جاتی ہے کیوں ٹکرا کر
ایک صورت ہے جو تعبیر نہیں بن پاتی
اُس سے ملنا ہے قیامت کی مشقت جیسے
کچھ بھی کرتا ہوں میں تدبیر نہیں بن پاتی
پردہء چشم پہ روشن ہو ذرا عکس اس کا
دل کو چھو لے جو وہ تحریر نہیں بن پاتی
تجھ کو روکوں پہ بہانے ہی نہیں مل پاتے
یا بہانوں میں وہ تاثیر نہیں بن پاتی
دیکھ اظہر وہ بناتے ہیں سبھی کچھ جگ میں
جو ملی تجھ کو وہ توقیر نہیں بن پاتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






