روح حضوری کو جلا ڈالا ہے ترے عشق نے
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
محبوب خداؐ ترے عشق میں دیوانہ ہوں
تری ہستی میں گم ،میں مستانہ ہوں
ترے عاشقوں کو پلاتا ہے جام بھر بھر کر جو
وہ ترے عشقِ بےمثال کا میں میخانہ ہوں
برسونگا مانندِ بجلی نجدی کی سوچ پر
تری چاہت کا ایسا میں تازیانہ ہوں
شاہِ دوسراؐ ، مظہرِنورِخداؐ ، مجھے قبول فرما
ترے غلاموں میں حقیر سا میں نزرانہ ہوں
جلائی تھی جو شمع توحید تو نے
اس شمع توحید کا میں پروانہ ہوں
عشق کو سولی پہ چڑھایا جس نے
اس سوچِ شریعت کا میں نشانہ ہوں
محبوبِ خداؐ عطا کر مجھے شریعت کی حدود
ورنہ میں بھی فتوؤں سے بیگانہ ہوں
روح حضوری کو جلا ڈالا ہے ترے عشق نے
جسمِ بےجاں لے کر سوۓ مدینہ میں روانہ ہوں
صلی اللہ علیہ وسلم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






