سنسان سڑک پر کھمبے سے لگے انتظار کا مزہ کیا کہیے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaبہکتی ھوئی کھنکتی ھوئ گفتار کا مزہ کیا کہیے
ٹھنڈی ھوئی شام میں خلوت یار کا مزہ کیا کہیے
نت نئے رنگوں سے پھولوں سے بھرا ایک چمن
ان کے جلو میں رعنا ئیے بہار کا مزہ کیا کہیے
سر ھلا کر اٹھلا کر وہ انداز خراماں
سانسوں کی مہکتی ھوئی رفتار کا مزہ کیا کہیے
دھونڈتی ھوئی بے قرار ھوئی انکی نظریں
کہیں دور سے محفل میں دیدار کا مزہ کیا کہیے
اچانک سے گبھراھٹ سے یک لخت آ ٹکرانا
دھڑکتے ھو ے د ل بے قرار کا مزہ کیا کہیے
مسکرا کر مڑ مڑ کر نظروں کو چھپائے
وہ اقرار میں چھپی انکار کا مزہ کیا کہیے
بے چین ھو ئے غصے میں بھر ے گنوار بنے عارف
سنسان سڑک پر کھمبے سے لگے انتظار کا مزہ کیا کہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






