روح سلگتی رکھی ہے اور سینہ جلتا رکھا ہے

Poet: منیر سیفی By: راحیل, Quetta

روح سلگتی رکھی ہے اور سینہ جلتا رکھا ہے
اُس نے مجھ کو لاکھوں انسانوں سے اچھا رکھا ہے

تم روشن کر رکھو جتنے ہجر الاؤ ممکن ہوں
مَیں نے بھی اپنی آنکھوں کے پیچھے دریا رکھا ہے

آنکھ کہاں ہے، ایک آفت گویا رکھی ہے چہرے پر
دِل کب ہے میرے پہلو میں، ایک تماشا رکھا ہے

جو مجھ میں کھُل کر ہنستا اور ساوَن بھادُوں روتا تھا
اُس بچے کو میں نے اب تک خود میں زندہ رکھا ہے

جس دِن میری دھرتی اپنی چادر مجھ پر ڈالے گی
بس اُس دِن کی خاطر مَیں نے خود کو زندہ رکھا ہے

خاک بسر پھرتی ہیں جس میں لیلائیں دِن رات، منیرؔ
مَیں نے اپنی ذات میں ایک ایسا بھی صحرا رکھا ہے

Rate it:
Views: 488
04 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL