کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے

Poet: فخر زمان By: ساجد ہمید, Rawalpindi

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے
صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے

مانا کہ مرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس
اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گرا ہے

سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی
سورج ہے کہ مدت سے مرے سر پر کھڑا ہے

ہر سمت خموشی ہے مگر کہتے ہیں کچھ لوگ
اس شہر میں اک شور قیامت کا بپا ہے

دیوار سے گو اینٹ کھسک کر پڑی سر پر
صد شکر کہ روزن کوئی زنداں میں کھلا ہے

اب دیکھیے کس راہ میں دیوار بنے گا
ڈھلوان پہ اک سنگ گراں چل تو پڑا ہے

اس سال مرے کھیت میں اولے بھی پڑے ہیں
اس سال مری فصل کو کیڑا بھی لگا ہے

آنکھیں مری روشن رہیں خوش حال رہوں میں
اک اندھی بھکارن کی مرے حق میں دعا ہے

میں بھوک سے بے حال ہوں تو سیر شکم ہے
کیا میرا خدا وہ نہیں جو تیرا خدا ہے

Rate it:
Views: 573
04 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL