روحِ سخن ہو تُم ہی غزل کا نکھار ہو

Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ, 1e Exloermond

روحِ سخن ہو تُم ہی غزل کا نکھار ہو
آئے کبھی خزاں نہ تم ایسی بہار ہو

بھٹکا ہؤا راہی ہوں کسی ریگزار کا
تم ریگزاروں میں بھی شجرِ سایہ دار ہو

مانی تھیں مَیں نے منّتیں کعبے کے روبرو
جنّت وہاں ملے جہاں دیدارِ یار ہو

اب آئے ہو تو سُن لو کہ ہم بھی ہیں راہ میں
رکنا وہیں پہ جس جگہ میرا مزار ہو

میرے پڑوس میں ابھی خالی ہے اک جگہ
نہ نہ خدا کرے تمہیں ڈینگی بخار ہو

نسلِ یہود سے کوئی پوچھے تو با خدا
یہ کیسا استکبار ہے جس پر سوار ہو

ہر چند عقل و خِرد میں حاصل ہے برتری
اور یہ بھی سچ ہے سارے ہی سرمایہ دار ہو

پر دوسرے بھی جینے کا رکھتے ہیں حق ضرور
مفلس ہو کوئی یا کوئی مزدور دار ہو

تم بھی رہو اور اہلِ فلسطین بھی یہاں
کیوں مرنے مارنے پہ ہی سدا بے قرار ہو
 

Rate it:
Views: 120
18 Apr, 2025
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL