روشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

روشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں
ہمیں چراغ وفا کی طرح جلنا ہے رات بھر آسماں تا زمیں وہ جلائیں کہیں

وہ بھٹکتی ہوئی روحیں جیسے ملیں، یوں ملے وہ نگاہیں مگر خوف ہے
زیست ہے رات میں جنگلوں کا سفر اس جنم میں بھی ہم کھو نہ جائیں کہیں

شہرتیں مثل مینارِ عظمت ہمیں آسماں کی طرف لے چلی ہیں مگر
جی میں ہے سبز پیغمبروں کی طرح سینائے سنگ سے سر اٹھائیں کہیں

بر ف سی اجلی پوشاک کے پہنے ہوئے پیڑ جیسے دُعاؤں میں مصروف ہیں
وادیاں پاک مریم کا آنچل ہوئیں آؤ سجدہ کریں سر جھکائیں کہیں

کوئی کتبہ نہیں ہے سر راہ ہم جس پہ اقوالِ زریں بدلتے رہیں
ہم تو آنسو ہیں پلکوں پہ رکھ لو ہمیں جب اشارہ کرو ٹوٹ جائیں کہیں

ان کہے شعر ہیں وادیئے جہاں میں مختلف رنگ کے جھلملائے دیئے
دستِ الفاظ محفوظ کر لے ا نہیں چل رہی ہے ہوا بجھ نہ جائیں کہیں

Rate it:
Views: 514
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL