رونا بھی اگر چاہوں تو رویا نہیں جاتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااحساس زیاں چین سے سویا نہیں جاتا
رونا بھی اگر چاہوں تو رویا نہیں جاتا
ساحل کی نگاہوں میں کوئی درد ہے ایسا
موجوں کو مری ناؤ ڈبو یا نہیں جاتا
کیا جانیے کس بات پہ دشمن ہوا موسم
سرسبز کسی شاخ کا ہویا نہیں جاتا
لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہ
پھر دل میں وہ چاہت کو جگایا نہیں جاتا
ڈوبا ہے جو ہر خواب تو اب اس سے گلہ کیا
جس نے مری پلکوں پہ بہایا نہیں جاتا
اب موسمِ باراں کی تڑپ ہے مجھے لیکن
برسات کی آنکھوں میں بہایا نہیں جاتا
قندیل وفا بن کے سلگتی میں رہی ہوں
وشمہ تری آنکھوں سے پکارا نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






