سورج کا یہاں دن میں نظارہ نہیں جاتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسورج کا یہاں دن میں نظارہ نہیں جاتا
تاروں کا گھنی شب میں تماشا نہیں جاتا
یادوں کا تسلسل بھی گراں بار ہوا ہے
نکلوں بھی تو کس راہ سے ، رستہ نہیں جاتا
یہ خواب مرے پیڑ پہ شاخوں کی طرح ہیں
آندھی ہے یا طوفاں ہے ،پرندہ نہیں جاتا
چاہت کا تقاضا ہے تجھے دل میں بٹھا لوں
میں عام سی لڑکی ہوں فرشتہ نہیں جاتا
میں نے تری دنیا میں محبت کے نظارے
دیکھے ہیں بہت آپ کے جیسا نہیں جاتا
کیا بات ہے گلشن میں یہ تتلی کا مقدر
شبنم ہے مگر پھول پہ پہرہ نہیں جاتا
اک چاند تو نکلا ہے مرے صحن میں وشمہ
حیرت ہے کہ مجھ جیسا ستارہ نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






