رُتیں فراقِ پیہم کی، جو چُنے ہوتے ہیں

Poet: مبشر ڈاہر Mobushir Dahr By: Mobushir Dahr, Karachi

رُتیں فراقِ پیہم کی، جو چُنے ہوتے ہیں
کفن کے تاروں کو خود ہی، وہ بُنے ہوتے ہیں

سمجھ نہ پائیں گے میری تلخ کامی کے وجہ
بے ربط عنواں سے قصہ جو سُنے ہوتے ہیں

متاعِ ضبطِ حاصل بھی، گنوا دیتے ہیں وہ تو
عتابِ رفتہ کے سایے، یُوں گھَنے ہوتے ہیں

کھلاتے گل ہیں خونِ رگِ جگر دے کر جو
محب چمن نے ایسے بھی، کچھ چُنے ہوتے ہیں

جَلا کے ناؤ خود اپنی، نکلے ہیں میداں کو
سپوت ایسے بھی ماؤں نے جنَے ہوتے ہیں

ملی ہی ہوتی ہیں خون میں وفائیں ڈاؔہر
بدن بظاہر تو مٹی سے بَنے ہوتے ہیں

Rate it:
Views: 444
09 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL