وعدے ہوں سچے جلا دیتے ہیں جذبوں کو کبھی
Poet: مبشر ڈاہر By: Mobushir Dahr, Karachiوعدے ہوں سچے جلا دیتے ہیں جذبوں کو کبھی
جذبے ہوں سچے ہلا دیتے ہیں رسموں کو کبھی
تھی برستی مجھ پہ ہم رہ تیرے برسوں جو کبھی
ہو میسر مجھ کو وہ برسات، لمحوں میں کبھی
شبِ گل بھی تھی منور، تیرے جلووں سے کبھی
اب کے دکھتی ہی نہیں وہ رات، راتوں میں کبھی
ڈھونڈتا دل ہے مرا اس کو سرابوں میں کہیں
چاشنی تھی جو ترے لہجے میں، صدیوں سے کبھی
آج قاصر ہیں دلائل بھی سمجھنے سے مرے
بات کرتے تھےجو مجھ ہی سے اشاروں میں کبھی
ہے کھڑا وہ غیر کی نگری میں، سرِ دست ابھی
ابتدا جو شخص تھا، سب میرے رشتوں کا کبھی
معتبر بن پھر تے ہیں، اے آسماں تجھ پہ ابھی
رکھ کے چلتے جو قدم تھے، میرے قدموں پہ کبھی
سرِ گلشن رکھ دی ہیں چاہت کی، کچھ شمعیں میں نے
ڈھونڈ لو میری محبت کو،احساسوں میں کبھی
شبِ فرقت، وصل کا مہوش، کیوں ڈستا ہے مجھے
ہجر میں آئے ملن کا گُر ہی خوابوں میں کبھی
اب تو خوابوں کے جزیروں پہ پڑے ہیں بے نشاں
پہنچیں گےہم بھی ڈاہر، شادمانوں میں کبھی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






