وعدے ہوں سچے جلا دیتے ہیں جذبوں کو کبھی
Poet: مبشر ڈاہر By: Mobushir Dahr, Karachiوعدے ہوں سچے جلا دیتے ہیں جذبوں کو کبھی
جذبے ہوں سچے ہلا دیتے ہیں رسموں کو کبھی
تھی برستی مجھ پہ ہم رہ تیرے برسوں جو کبھی
ہو میسر مجھ کو وہ برسات، لمحوں میں کبھی
شبِ گل بھی تھی منور، تیرے جلووں سے کبھی
اب کے دکھتی ہی نہیں وہ رات، راتوں میں کبھی
ڈھونڈتا دل ہے مرا اس کو سرابوں میں کہیں
چاشنی تھی جو ترے لہجے میں، صدیوں سے کبھی
آج قاصر ہیں دلائل بھی سمجھنے سے مرے
بات کرتے تھےجو مجھ ہی سے اشاروں میں کبھی
ہے کھڑا وہ غیر کی نگری میں، سرِ دست ابھی
ابتدا جو شخص تھا، سب میرے رشتوں کا کبھی
معتبر بن پھر تے ہیں، اے آسماں تجھ پہ ابھی
رکھ کے چلتے جو قدم تھے، میرے قدموں پہ کبھی
سرِ گلشن رکھ دی ہیں چاہت کی، کچھ شمعیں میں نے
ڈھونڈ لو میری محبت کو،احساسوں میں کبھی
شبِ فرقت، وصل کا مہوش، کیوں ڈستا ہے مجھے
ہجر میں آئے ملن کا گُر ہی خوابوں میں کبھی
اب تو خوابوں کے جزیروں پہ پڑے ہیں بے نشاں
پہنچیں گےہم بھی ڈاہر، شادمانوں میں کبھی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






