رات آنسو کو تری آنکھ میں دیکھا ہوگا
رکھ دیا توڑ کے جیسے کوئی تارا ہوگا
گمشدہ جسم ملے حلقۂ بازو جاگے
شام سے اوڑھ لیا آج سویرا ہوگا
غم میں خوش رہتے ہیں ہر سایۂ قربت سے دور
اب بدل ڈالا مزاج اہل وفا کا ہوگا
اوس میں مہکی ہوئی رات کے پونچھے آنسو
صبح کو دے دیا ہنستا ہوا چہرا ہوگا
ختم خوش فہمئ سیرابی ہوئی ہونٹوں تک
آنکھ سے دیکھا ہے پیاسا کوئی دریا ہوگا
چکھ لیا جذبۂ وارفتہ نے اک رنگ حیات
کر لیا اپنے لب سادہ کو اچھا ہوگا