زرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

دل وحشی میں اکثر کرچیاں آرام کرتی ہیں
لب گرداب پاگل کشتیاں آرام کرتی ہیں

میری خاموشیوں کا تجزیہ کر کے ہی جانو گے
رکے لمحوں میں کتنی آندھیاں آرام کرتی ہیں

کہیں بھی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا امنگوں نے
میرے چلتے لہو میں تتلیاں آرام کرتی ہیں

بہاریں روٹھ کے گزریں پریشاں ہے چمن سارا
کہاں ہو تم کہاں وہ شوخیاں آرام کرتی ہیں

پرندوں کا جبھی تو کوچ کر جانا ہی بہتر ہے
سنا ہے گھونسلوں میں بجلیاں آرام کرتی ہیں

جہاں والے سمجھتے ہیں جسے تخلیق گوہر کی
دبا کر دل میں آنسو سیپیاں آرام کرتی ہیں

تو پھر پلکوں پہ بھی دستک کہاں محسوس ہوتی ہے
کہ جس موسم میں دل کی کھڑکیاں آرام کرتی ہیں

چھڑی خوشبو تو فطرت کا وہی پھر بانکپن بولا
ذرا تھم کر یہاں کچھ لڑکیاں آرام کرتی ہیں

چھپا رکھا ہے سب سے تم کو پھر بھی لوگ کہتے ہیں
میرے لفظوں میں تیری سسکیاں آرام کرتی ہیں

Rate it:
Views: 717
01 Dec, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL