زمانے کے سَبھی غَم میرے اَندر آ کے مِلتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیزمانے کے سَبھی غَم میرے اَندر آ کے مِلتے ہیں
میں صحرا ہوں کئ مُجھ سے سَمَندر آ کے مِلتے ہیں
اُنہیں تو مُجھ سے رہنا چاہیۓ تھا دُور قوسوں دُور
اُنہیں مُجھسے جو نفرت ہے تو کیونکر آ کے مِلتے ہیں
محبت پہلے جنت ہے تو پھر ہے بعد میں دوزخ
حشر ایسا جہاں پر سارے محشر آ کے مِلتے ہیں
مُجھے مُلاں بتا نا تُو قیامت کا کوئ منظر
ہجر والوں سے روز ایسے ہی منظر آ کے مِلتے ہیں
مرے شاید محلے میں کُھلا ہے کوئ میخانا
جو آتے جاتے میکش مُجھ سے اَکثر آ کے مِلتے ہیں
وہ سب میری نظر میں تو مقدر کے سکندر ہیں
جِنہیں بیٹھے بِٹھاۓ گھر میں دِلبر آ کے مِلتے ہیں
کِسی مَجنُوں کی رُوح باقرؔ مرے اَندر سمائ ہے
یہ مُجھ سے خواب میں اَکثر جو پتھر آ کے مِلتے ہیں
زمانے کے سَبھی غَم میرے اَندر آ کے مِلتے ہیں
میں صحرا ہوں کئ مُجھ سے سَمَندر آ کے مِلتے ہیں
اُنہیں تو مُجھ سے رہنا چاہیۓ تھا دُور قوسوں دُور
اُنہیں مُجھسے جو نفرت ہے تو کیونکر آ کے مِلتے ہیں
محبت پہلے جنت ہے تو پھر ہے بعد میں دوزخ
حشر ایسا جہاں پر سارے محشر آ کے مِلتے ہیں
مُجھے مُلاں بتا نا تُو قیامت کا کوئ منظر
ہجر والوں سے روز ایسے ہی منظر آ کے مِلتے ہیں
مرے شاید محلے میں کُھلا ہے کوئ میخانا
جو آتے جاتے میکش مُجھ سے اَکثر آ کے مِلتے ہیں
وہ سب میری نظر میں تو مقدر کے سکندر ہیں
جِنہیں بیٹھے بِٹھاۓ گھر میں دِلبر آ کے مِلتے ہیں
کِسی مَجنُوں کی رُوح باقرؔ مرے اَندر سمائ ہے
یہ مُجھ سے خواب میں اَکثر جو پتھر آ کے مِلتے ہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






