نام لِکھ لِکھ کے ترا روز مٹاتے رہنا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

نام لِکھ لِکھ کے ترا روز مٹاتے رہنا
میری عادت ہے یونہی وقت بتاتے رہنا

میرا معمول، تری یاد کی تسبیح کے ساتھ
تیری تصویر کو سینے سے لگاتے رہنا

اِس لئے جاگتا رہتا ہوں کہ لگتا ہے بھلا
چاند تاروں کا مجھے حال سناتے رہنا

آئنہ مجھکو ترا عکس دکھاتا ہے سدا
اِسکا معمول ہے مجھکو یوں، جلاتے رہنا

آج سنتا ہوں کہ نیندوں کو ترستا ہے وہی
جس کی عادت تھی مجھے روز جگاتے رہنا

ارے قاصِد وه مِلے بھی تو بَس اِتنا کہنا
یاد کر وعده مرے خواب میں آتے رہنا

یہ زمانہ تو محبت کا ہے دُشمن باقرؔ
دِل کی ہر بات کو لوگوں سے چُھپاتے رہنا

*
Rate it:
Views: 929
24 Aug, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL