نام لِکھ لِکھ کے ترا روز مٹاتے رہنا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالینام لِکھ لِکھ کے ترا روز مٹاتے رہنا
میری عادت ہے یونہی وقت بتاتے رہنا
میرا معمول، تری یاد کی تسبیح کے ساتھ
تیری تصویر کو سینے سے لگاتے رہنا
اِس لئے جاگتا رہتا ہوں کہ لگتا ہے بھلا
چاند تاروں کا مجھے حال سناتے رہنا
آئنہ مجھکو ترا عکس دکھاتا ہے سدا
اِسکا معمول ہے مجھکو یوں، جلاتے رہنا
آج سنتا ہوں کہ نیندوں کو ترستا ہے وہی
جس کی عادت تھی مجھے روز جگاتے رہنا
ارے قاصِد وه مِلے بھی تو بَس اِتنا کہنا
یاد کر وعده مرے خواب میں آتے رہنا
یہ زمانہ تو محبت کا ہے دُشمن باقرؔ
دِل کی ہر بات کو لوگوں سے چُھپاتے رہنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






