زندگی بڑی تلخ ہے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadزندگی بڑی تلخ ہے کوئی خواب سہانہ تو نہیں
میری بات مان میں اپنا ہوں بیگانہ تو نہیں
تو چاہتا ہے حالات کو بھی مرضی کے تابع
زندگی ہے میری جان کوئی دل دیوانہ تو نہیں
یہ گزر ہی جاتے ہیں ظالم جوانی کے چار دن
ناز نا حسن پر کر ٹھہرا کوئی زمانہ تو نہیں
آجاتےہیں جو نئے چہرے تیرے در پہ روز
ڈر ہے مجھے دل تیرا کوئی مئے خانہ تو نہیں
عادت بدل اتنے لوگوں کو پاس بلایا نہ کر
دل تو دل ہے میری جان مسافر خانہ تو نہیں
سنبھال خود کو ورنہ تو بھی بکھر جائے گا
سیدھی بات ہے میری جان کوئی افسانہ تو نہیں
ممکن نہیں کبھی بھی کہ بھر جائے محبت سے
یہ تو گہرائی دل ہے ساجد کوئی پیمانہ تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







