چھوڑ آیا ہوں اسے بھی کہیں رستے میں
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratکسی موڑ کسی بھی مقام سے شروع ہوا
ذکر میرا تو تیرے ہی نام سے شروع ہوا
برس اک اور بیت گیا ہے اس کے بغیر
میرا ہر پل جس کے نام سے شروع ہوا
تمام عمر ہی سائے رہے ہیں تعاقب میں
میرا ہر دن ہی نئی شام سے شروع ہوا
چھوڑ آیا ہوں اسے بھی کہیں رستے میں
عجیب سفر ہے یہ جو انجام سے شروع ہوا
تیری تقسیم میں میرا نہ کوئی حصہ تھا
ساقی تیرا دور باقی تمام سے شروع ہوا
سارا ہی شہر تھا تیرا چاہنے والا مظہر
اک ذکر میرا ہی الزام سے شروع ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







