زندگی ذرا سی ہے
Poet: عبدُالجبّار لاڑک By: Abdul Jabbar Larik, Islamabadزندگی ذرا سی ہے
جینا دُشوار مت کیجئے
اپنا خیال کیجئے
مجھ سے پیار مت کیجئے
ایسے تھوڑی ہوتا ہے
جو آپ کر رہے ہیں
یہ دل کی خوائش ہے
تو بدل دیجئے
یہ جو میں نہیں ہوں
در حقیقت وہ میں ہوں
میرے بارے میں سوچئے
خود سے بات کیجئے
لیکن سنو
ذرا سوچئے، سمجھئے
سمجھنے کی بات ہے
عامل نہیں ہوں میں خود
میری بات سنئیے
مگر اعتبار مت کیجئے
زندگی ذرا سی ہے
جینا دشوار مت کیجئے
مجھے خود تم سے محبت ہے
مگر کیا کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






