زندگی کو کیا بھلا دے گی سہارے زندگی

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

زندگی کو کیا بھلا دے گی سہارے زندگی
زندگی جو خود بھی مشکل سے گزارے زندگی

بس اک اپنے کی عطائیں ہیں رلاتی رات بھر
کٹ رہی ہے ویسے تو میری بھی پیارے زندگی

جو بھی اپنی زندگی کو وقف اوروں پر کریں
ایسے لوگوں کو ہی دیتی ہے سہارے زندگی

ہاں حقیقت زندگی کی جانتا وہ شخص ہے
مفلسی میں رات دن جو بھی گزارے زندگی

دکھ یہی تو ہے کہ بس اک بےوفا کے عشق میں
وقف کر دیتے ہیں کیوں عاشق بیچارے زندگی

جان جاؤ پھر کوئ تازہ غزل ہونے کو ہے
جب نظر آنے لگے دریا کنارے زندگی

رات دن لوگوں کے طعنے کھاۓ جاتے ہیں مجھے
کیا بتاؤں کہ ہے کیسی بن تمہارے زندگی

یار اب تو لوٹ آ کے زندگی کٹتی نہیں
یا بتا کیسے بِتائیں غم کے مارے زندگی

اب تو باقر کو کہو کہ چھوڑ دے غم یار کے
اس کا حق بنتا ہے وہ اپنی سنوارے زندگی

Rate it:
Views: 401
10 May, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL